کشور کمار کی 30ویں برسی پر ان سے وابستہ کچھ یادیں کچھ باتیں

ممبئی: موت کے چوتھائی صدی بیت جانے کے بعد بھی ہندوستانیوں اور عالمی پیمانے پر موسیقی و گیتوں کے شوقینوںکے دلوں پر راج کرنے والے عظیم پلے بیک سنگر کشور کمار، جن کی13اکتوبر کو 30ویں برسی ہے، کے بارے میں مشہور ہے کہ جب وہ پانچویں کلاس کے طالبعلم تھے تو حساب کے پرچے کا وہ کوئی سال حل نہیں کر پائے ۔جب ان کو کوچھ نہیں سوجھا تو انہوں نے سولات حل کرنے کے بجائے اپنی جواب کاپی پر چٹکلے،چھوٹی چھوٹی نظمیں ، کارٹون اور آڑے ترچھے مسکراتے چہروں کے خاکے کھینچ دیے۔ان کا پانچ روپے بڑا آنہ جیسا ایک مقبول نغمہ ان کی زندگی کی سچا آئینہ دار ہے۔
لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ پیسوں کے لالچی تھے یا کنجوس تھے۔4اگست1929کو مدھیہ پردیش کے کھنڈوا میں پیدا ہونے والے کشور کمار اتنے سخی طبیعت کے مالک تھے کہ انہوں نے ستیہ جیت رے کو پاتھیر پانچالی بنانے کے لئے1964میں اس وقت جب چند سو روپوں کی نہایت اہمیت ہوتی تھی 5 ہزار روپے کی بھی مدد کی تھی۔ کمل دھیمان، جنہوں نے کشور کمار پر اب تک تین کتابیں تصنیف کی ہیں اور چوتھی کتاب بھی لکھ رہے ہیں،25 نومبر کو ان کی یاد میں موسیقی کا ایک پروگرام کا انعقاد کررہے ہیں۔
مسٹر دھیمان نے یو این آئی سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ کشور کمار کے بارے میں یہ بات بہت مشہور ہے کہ وہ نہایت کنجوس تھے، جبکہ یہ حقیقت نہیں ہے وہ اصل میں دریا دل انسان تھے۔ جب انہیں معلوم ہوا کہ ستیہ جیت رے کو پاتھیر پانچالی بنانے میں مالی دشواری پیش ا?رہی ہے تو انہوں نے فوراً پانچ ہزار روپے کی مدد کی۔ مسٹر دھیمان نے بتایا کہ کشور دا نے ستیہ جیت رے کے لئے تین گانے بنگال میں گائے تھے جس کے انہوں نے پیسے بھی نہیں لئے تھے۔ انہوں نے کشور کمار کی دریا دلی کا ایک قصہ اور بیان کیا کہ سال 1964 میں بنی فلم دال میں کالا کی شوٹنگ کے دوران جب مالی تنگی کی وجہ سے ڈائریکٹر وپن گپتا نے شوٹنگ بند کردی تو کشور کمار نے فورا ً اپنے ڈرائیور کو بھیج کر 20 ہزار روپے منگوائے اور ان روپیوں کو انہوں نے وپن گپتا کو سونپ دیا۔
کشور کمار کے کھنڈوا کے بچپن کے دوست بابو رنگیز عرف فتح محمد کا حوالہ دیتے ہوئے مسٹر دھیمان نے بتایا کہ ممبئی میں جب وہ پہلی بار ان کے گھر پر ملنے گئے تو جاتے وقت انہوں نے ایک بریف کیس ان کےحوالے کیا اور گلے لگاکر رونے لگے۔ تب اچانک بریف کیس کھل گیا اور اس میں سے تقریباً چار یا پانچ لاکھ روپے گر گئے۔ بابو رنگیز حیرت زدہ رہ گئے اور انہوں نے روپیہ لینے سے انکار کردیا تب کشور دا نے کہا کہ یہاں لوگ محبت اور احساسات کی قدر نہیں کرتے بلکہ پیسہ کی عزت کرتے ہیں.راجیش کھنہ کی فلم الگ الگ کے لئے بھی انہوں نے پیسہ نہیں لئے تھے۔ اسی لئے انہیں کنجوس کہنا بے معنی ہے۔ کشور واقعی عظیم شخصیت کے مالک تھے اسی لئے ان کی شخصیت منفرد تھی اور وہ عجیب و غریب حرکتیں بھی کیا کرتےتھے جس کی وجہ سے ان کے بارے میں طرح طرح کے قصے موجود ہیں۔ وہ کبھی درختوں سے باتیں کرتے تھے تو کبھی اسٹیج پر گانے کے دوران ڈانس کرنے لگتے تھے۔
مسٹر دھیمان نے کہاکہ ابھی تک کشور کمار کو ہم نے ایک پلے بیک سنگر کے طور پر ہی دیکھا ہے لیکن ایک اداکار کے طور پر ان کا تجزیہ نہیں کیا ہے۔ انہوں نے تقریباً 91 فلموں میں اداکاری کی ہے اور 12 فلمیں تو نامکمل ہی رہیں۔ اس کے علاوہ وہ چار اور فلمیں بنانا چاہتے تھے لیکن13اکتوبر1987کو ان کے انتقال کرجانے سے وہ ادھوری ہی رہ گئیں ۔

Title: remembering kishore kumar | In Category: انٹرٹینمنٹ  ( entertainment )