بالی ووڈ کے معروف نغمہ نگار شیلندر کو ان کے پیدائش پر فلمی شخصیات کا خراج عقیدت

ممبئی: بالی وڈ کے معروف نغمہ نگار شیلیندر نے دو دہائی تک تقریباً 170 فلموں میں زندگی کے ہر فلسفہ اور ہررنگ پر فلم انڈسٹری کو بے شمار نغمے دیئے جو آج بھی دنیا بھر میں شوق سے سنے جاتے ہیں۔ ان کے نغموں میں ایک خاص قسم کی کشش، ایک دھیما پن اور ایک ایسا لوچ تھا جس کی کیفیت سننے والے ہی بیان کرسکتے ہیں۔ پنجاب کے راولپنڈی شہر (پاکستان) میں 30 اگست 1923 کو پیدا ہونے والے شیلندر کا پورا نام شنکرداس کیسری لال عرف شیلیندر تھا۔ انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز ممبئی میں انڈین ریلویز میں نوکری سے کیا تھا۔ ملازمت کے سلسلے میں وہ اکثر سفر میں بھی رہتے تھے۔اس کے باوجو وہ اپنا زیادہ تر وقت نظمیں لکھنے میں ہی گزارتے تھے جس کی وجہ سے ان کے افسران ان سے ناراض رہتے تھے۔ انہی دنوں انہوں نے شاعری بھی شروع کردی تھی۔ نغمہ نگار شیلندر، موسیقار شنکر جے کشن اور فلم ساز،اداکار راج کپور کی ٹیم نے اپنے دور میں بالی وڈ میں دھوم مچادی تھی۔ انہوں نے 1950اور1960کے عشروں میں متعدد معروف ہندی فلموں کے نغمے لکھے جنہیں لازوال شہرت حاصل ہوئی۔ اسی دوران شیلندر ملک تحریک آزادی میں شامل ہوگئے تھے اور جلسوں وغیرہ میں اپنی نظمیں پڑھ کر سنایا کرتے تھے۔ سب سے پہلے فلم ساز راج کپور نے شیلندر میں چھپے ہوئے فنکارکو پہچانا۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب شیلندر ایک مشاعرے میں اپنی نظم ”جلتا ہے پنجاب“ پڑھ رہے تھے۔راج کپور کو ان کا انداز بہت پسند آیا اور انہوں نے اپنی فلموں کے لئے نغمے لکھنے کی پیش کش کی مگر اس موقع پر نہ جانے شیلندر کو کیا ہوا کہ انہوں نے راج کپور کی یہ پیشکش مسترد کردی۔ اس کی بظاہر کوئی معقول وجہ بھی نہیں تھی، مگر بعد میں انہیں اپنی غلطی کا احساس ہوا تو انہوں نے راج کپور سے خود رابطہ کیا اور ان کی پیشکش قبول کرنے پر آمادہ ہوگئے۔ بطور نغمہ نگارشیلندر نے اپنا پہلا نغمہ 1949 میں ریلیز راج کپور کی فلم برسات کے لئے ’برسات میں تم سے ملے ہم سجن‘ لکھا تھا۔ اسی فلم سے بطور موسیقار شنکر جے کشن نے بھی اپنے کیرئر کا آغاز کیا تھا۔ اس فلم کے بعد شیلندر ، راج کپور کے پسندیدہ نغمہ نگار بن گئے اور اس جوڑی نے کئی فلمیں ایک ساتھ کیں۔ 1951ء میں فلم ” آوارہ“ بنی جس کا نغمہ ” آوارہ ہوں، کیا گردش میں ہوں آسمان کا تارا ہوں“ اس قدر مشہور ہوا کہ اس نے ہندوستان سے باہر ہندوستانی فلم کے سب سے مقبول نغمہ کا درجہ حاصل کرلیا۔ اس کے علاوہ دیگر فلموں میں آوارہ، آہ، شری 420، چوری چوری، اناڑی، جس دیش میں گنگا بہتی ہے، سنگم، تیسری قسم، اراو¿نڈ دی ورلڈ، دیوانہ، سپنوں کا سوداگر اور میرانام جوکر وغیرہ شامل ہیں۔.شیلندر اپنے کیریئر کے دوران ’پروگریسیو رائٹرز ایسوسی ایشن ‘کے سرکردہ رکن رہے۔ وہ انڈین پیپلز تھیٹر (اپٹا) کے بانیوں میں سے ایک تھے۔ وہ اپنے نغموں کے لئے تین مرتبہ فلم فیئر ایوارڈ سے بھی نوازے گئے۔ شنکر جے کشن کے علاوہ نغمہ نگار شیلندر نے بالی وڈ کے دیگر معروف اور مقبول موسیقاروں کے ساتھ بھی کام کیا جن میں سلیل چوہدری (مدھومتی) سچن دیو برمن (گائیڈ، بندنی اور کالا بازار) اور روی شنکر (انورادھا) شامل ہیں۔ اسی طرح انہوں نے راج کپور کے علاوہ دیگر معروف فلم سازوں کے ساتھ بھی کام کیا جن میں بمل رائے (دو بیگھہ زمین، مدھومتی، بندنی) اور دیوآنند (گائیڈ اور کالا بازار) وغیرہ شامل ہیں۔ انہوں نے 1960 میں فلم پرکھ کے ڈائیلاگ بھی لکھے تھے۔ شیلندر نے فلم ”تیسری قسم“ (1966) کی تخلیق کی لیکن باکس آفس پر اس کی ناکامی کے بعد انہیں شدید صدمہ پہنچا۔ انہوں نے اس فلم پر اپنی ساری جمع پونجی لگادی تھی اور فلم ناکام ہوگئی تھی۔ یہ ایک بہت بڑا ٹینشن تھا جس کی وجہ سے انہیں کئی مرتبہ دل کا دورہ پڑا۔ انہوں نے 13 دسمبر 1966 کو راج کپور کو اپنے کاٹج میں بلاکر ان کی فلم میرانام جوکر کا نغمہ ’جینا یہاں مرنا یہاں‘ کو پورا کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن وہ وعدہ ادھورا ہی رہ گیا اور اگلے ہی دن 14 دسمبر 1966 کو ان کی موت ہوگئی۔

Title: how raj kapoor and his poet friend shailendra became a classic in indian cinema | In Category: انٹرٹینمنٹ  ( entertainment )