’نمی دانم چہ منزل بود ‘کے ا مجد صابری نے قوالی کو نیا مقام دلایا

نئی دہلی: امجد صابری کو پاکستان کے بہترین قوالوں میں سے ایک سمجھا جاتا تھا۔ صابری برادران کو 1970 کی دہائی میں قوالی کو مغربی ممالک تک لے جانے کا سہرہ دیا جاتا ہے۔ اس قوالی گروپ کا آغاز مرحوم غلام فرید صابری اور ان کے چھوٹے بھائی حاجی مقبول احمد صابری نے کیا تھا۔
امجد صابری غلام صابری کے بیٹے تھے۔ مقبول صابری نے اپنے بھائی غلام فرید صابری کے ساتھ مل کر 50 کی دہائی میں قوالی گروپ بنایا تھا۔ انہوں نے ایک گروپ بنایا تھا جس نے صوفیانہ قوالی کی ایک ایسی روایت شروع کی جس سے پوری دنیا جھوم اٹھی۔ اسی روایت کو مقبول کے بھتیجے امجد صابری آگے بڑھا رہے تھے۔
وہ پاکستان کے سب سے زیاد معروف قوال بن چکے تھے۔
امجد صابری کچھ دنوں پہلے بالی ووڈ میں بھی موضوع بحث تھے۔ سلمان خان کی فلم بجرنگی بھائی جان میں صابری برادران کی مشہور قوالی ‘بھر دو جھولی’ کو شامل کیا گیا تھا، جس پر امجد نے ناراضگی ظاہر کی تھی۔ امجد نے قانونی نوٹس بھیجتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ ان کے والد غلام فرید صابری کی اس مشہور قوالی کو بغیر اجازت فلم میں شامل کیا گیا۔
فلم میں اس گانے کو عدنان سامی نے گایا جو کافی مشہور ہوا تھا۔ وہیں اس سے پہلے 2008 میں آئی فلم ہلہ بول میں امجد صابری نے مشہورقوالی ’مورے حاجی پیا‘ گایا۔ امجد صابری کی قوالیاں پاکستان ہی نہیں ہندوستان اور پوری دنیا میں مشہور ہیں۔
انہوں نے صوفیانہ موسیقی کو نیا مقام دلایا۔امجد صابری نے پاکستان اور ہندوستان میں بھی کئی شو کئے ہیں۔ ان کی فارسی زبان کی کمپوزیشن ‘نمی دانم چہ منزل بودبھی کافی مشہور ہوئی تھی۔ وہ کچھ دن پہلے ہی امریکہ اور یورپ کے کئی ممالک میں شو کرکے لوٹے تھے۔ صابری ایک کامیاب کاروباری بھی تھے۔ امجد اور ان کے بھائی کے گروپ نے جو بھی گایا، سپر ہٹ رہا۔